اردو ٹائپ کرنے میں دشواری ہے ؟
دل_بے_تاب کو کب وصل کا یارا ہوتا
شاعر:یگانہ چنگیزی
ذریعہ : ریختہ
سر جھکائے تری امید پہ بیٹھے ہیں ہم
قاتل اس بار امانت کو اتارا ہوتا
نگہ لطف سے محروم ہوں اب تک ساقی
صف آخر کی طرف بھی اک اشارا ہوتا
یاس اب آپ کہاں اور کہاں بانگ جرس
کون اس وادئ غربت میں تمہارا ہوتا
صورت ظاہری اک پردۂ تاریک تھی یاسؔ
حسن معنی کا کن آنکھیوں سے نظارہ ہوتا
دل_بے_رحم کی خاطر مدعا کچھ بھی نہیں ہوتا
شاعر:منیش شکلا
کبھی دل میں مرے تیرے سوا ہر بات ہوتی ہے
کبھی دل میں مرے تیرے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا
یہ سودا ہے نگاہوں کا تجارت دل کی ہے لیکن
محبت میں خسارہ فائدہ کچھ بھی نہیں ہوتا
کبھی دو چار قدموں کا سفر طے ہو نہیں پاتا
کبھی میلوں سے لمبا فاصلہ کچھ بھی نہیں ہوتا
فلک پر ہی ستاروں کا کوئی عنوان ہوتا ہے
کسی ٹوٹے ستارے کا پتہ کچھ بھی نہیں ہوتا
بھلے خواہش کروں تیری کسی بھی شکل میں لیکن
مرا مقصد پرستش کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا
اگر دیکھوں تو خامی ہی دکھائی دے ہر اک شے میں
اگر سوچوں تو خود سے بد نما کچھ بھی نہیں ہوتا